28 ذیل میں آنے والی آیتوں میں گزشتہ قوموں کے عیش پرستوں اور انبیائے کرام کے ساتھ ان کے برے برتاؤ اور کفر و شرک پر ان کے اصرار کا حال بیان کر کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین قریش کے کفر و شرک سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں، اس لئے کہ ہر دور کے سردار ان کفر اپنے انبیاء کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے جب بھی کسی بستی والوں کی ہدایت کے لئے کوئی نبی بھیجا تو ان کے سرداروں، عیش پرستوں اور فاسق و فاجر لیڈروں نے اس سے کہا کہ تم جس ایمان باللہ اور وحدانیت باری تعالیٰ کی بات کرتے ہو، ہم ان باتوں کا سراسر انکار کرتے ہیں اور اگر تھوڑی دیر کے لئے ہم مان بھی لیں کہ قیامت آئے گی اور کچھ لوگ عذاب دیئے جائیں گے تو ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہوں گے، اس لئے کہ جب اللہ نے ہمیں یہاں مال و اولاد سے نواز رکھا ہے، تو آخرت میں وہ ہمیں عذاب نہیں دے گا۔
اگر ہم اللہ کی نگاہ میں اچھے نہ ہوتے تو ہمیں یہاں اپنی نعمتوں سے نہ نوازتا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے اگر اس کی نگاہ میں بریے نہ ہوتے تو انہیں یہاں اپنی نعمتوں سے محروم نہ رکھتا۔
آیت 36 میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی گمان باطل کی تردید کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی فرمایا ہے کہ رب العالمین اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے روزی بڑھا دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے گھٹا دیتا ہے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت سے ہے، اس ضمن میں اچھے اور برے سبھی آتے ہیں کسی کی روزی میں وسعت اس بات کی ہرگز دلیل نہیں ہے کہ وہ اللہ کا محبوب بندہ ہے اور نہ ہی کسی کی روزی میں تنگی اللہ کے نزدیک اس کے مبغوض ہونے کی دلیل ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں سجھتے ہیں اور انہی میں سے وہ لوگ ہیں جو دنیا کی کامیابی پر آخرت کی کامیابی کو قیاس کرتے ہیں۔