فهرس الكتاب

الصفحة 3665 من 6343

23 اس آیت کریمہ میں معبود ان مشرکین کے جھوٹے اور باطل ہونے کی ایک دلیل پیش کی گئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ جنہیں تم اللہ کا شریک بتاتے ہو ذرا دکھاؤ تو سہی کہ ان میں کون سی خوبی پائی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر تم نے انہیں اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے؟ پھر اللہ نے خود ہی بطور رد و انکار شرک جواب دیا کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں میں کوئی بھی ایسی صفت ثابت نہیں کرسکتے ہیں کوئی بھی ایسا معبود نہیں دکھا سکتے ہیں جو اللہ کے سوا انہیں نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہو، وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی تنہا ذات ہے جو بڑی عزت والا ہر چیز پر غالب اور اپنے تمام اعمال میں حکیم و دانا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت