(5) اس ذات باری تعالیٰ کی صفت یہ بھی ہے کہ اس نے انواع و اقسام کی چیزیں اور تمام حیوانات و نباتات کے جوڑے پیدا کئے ہیں، صرف اس کی ذات فرد ہے، اس کا کوئی جوڑا نہیں ہے اور اس نے انسان کو کشتی بنانے کا علم دیا اور اس کے لئے چوپائے پیدا کئے لوگ ان کشتیوں اور چوپایوں پر سوار ہو کر سفر کرتے ہیں۔
اہل عقل و خرد اور اہل ایمان جب ان کشتیوں اور چوپایوں پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں جس نے ان جانوروں کو ان کے تابع فرمان بنا دیا ہے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو انہیں وہ مسخر نہیں کرسکتے تھے اور وہ کہتے ہیں کہ اس دنیاوی زندگی کے بعد ہمیں لوٹ کر اپنے رب کے پاس ہی جانا ہے، یعنی دنیاوی سفر سے ان کا ذہن آخروی سفر کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور دنیا کا زاد سفر دیکھ کر زاد آخرت کی فکر انہیں دامن گیر ہوجاتی ہے۔