(2) نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حکم کی فوراً تعمیل کی اور اپنی قوم سے کہا کہ میں اللہ کی جانب سے تمہیں کفر و شرک سے پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں، میری دعوت واضح ہے اور تمہارا کفر و شرک ظاہر ہے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں کیسے نجات ملے گی وہ بھی میں تمہیں صراحت کے ساتھ بتا دینا چاہتا ہں۔
میری دعوت یہ ہے کہ تم سب صرف اللہ کی بندگی کرو اس کی عبادت میں غیروں کو شریک نہ بناؤ، اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہو اور جس کام کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اور جس سے منع کرتا ہوں ان سب میں میری اطاعت کرو اس لئے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں، میں اسی کے حکم کے مطابق تمہیں کسی کام کا حکم دیتا ہوں اور کسی کام سے روکتا ہوں۔
اگر تم میری دعوت کو قبول کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور تمہیں تمہاری مقرر عمرتک زندہ رہنے دے گا یعنی عذاب دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور یاد رکھو کہ جب تمہارے عذاب کا وقت آجائے گا تو اسے ٹالا نہیں جائے گا کاش کہتم ان باتوں کو سمجھتے تو اللہ کی طرف رجوع کرتے، اپنے گناہوں سے توبہ کرتے اور اس سے طلب مغفرت کرتے !