فهرس الكتاب

الصفحة 5116 من 6343

(26) ذیل کی تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی بے بسی کو بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ اپنے خالق کی مرضی و منشا کے سامنے یکسر مجبور و مقہور ہے اور اس کی دلیل اس کی جان کنی کا عالم ہے کہ جب فرشتے آ کر اس کی جان نکالتے ہیں اور اس کی روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور نکلنے ہی والی ہوتی ہے اس وقت وہ اور اس کے سارے اقارب و احباب جو اس کے اردگرد ہوتے ہیں، کتنے مجبور ہوتے ہیں کہ اس کی روح نکل رہی ہوتی ہے، وہ اپنی پھٹی پھٹی نگاہوں سے سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس کے اردگرد سب لوگ اس کے حال پر رحم کھا رہے ہوتے ہیں، لیکن کوئی اس کی مدد نہیں کرسکتا کہ اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دے۔ اس وقت اللہ کے فرشتے مرنے والے سے اس کے رشتہ داروں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ یکن لوگ ان فرشتوں کو دیکھ نہیں پاتے ہیں، یا مرنے والا جو کچھ اس وقت جھیل رہا ہوتا ہے اس راز سربست سے لوگ بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔

آیات (86/87) میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی اسی بے بسی اور مجبوری کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر تم واقعی سچے ہو کر تم اللہ کی ذات برحق کے محکوم نہیں ہو، تو مرنے والے کی روح کو لوٹا کیوں نہیں دیتے ہو، اور موت کا اس سے پیچھا کیوں نہیں چھڑا دیتے؟!

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت