(7) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ میدان محشر میں کفار جب اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو دوبارہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں گے۔ سورۃ السجدہ آیت (12) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (ولوتری اذا لمجرون ناکسوارؤسھم عند ربھم رنا ابصرنا وسمعنا فارجمعنا نعمل صالحا انا موقنون) " کاش ! آپ دیکھتے جب کہ گناہ گار لوگ اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوں گے، کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا، اب تو ہمیں واپس لوٹا دے، ہم نیک اعمال کریں گے، ہم یقین کرنے والے ہیں" لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملے گا۔ پھر جب آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو پہلے سے زیادہ الحاج کے ساتھ سوال کریں گے، لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت (27) میں فرمایا ہے: (ولوتری اذوقفوا علی النار فقالوا یلیتنا نردو لانکذب بآیات ربنا ونکون من المومنین) " اگر آپ اس وقت دیکھیں جب یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے، تو کہیں گے، ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہوجائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہوجائیں گے" پھر جب آگ میں داخل کردیئے جائیں گے اور اس کی سختیوں کو جھیلنے لگیں گے اور ان کی حالت ناگفتہ بہ ہوجائے گی، تو چیخیں ماریں گے اور کہیں گے: (ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل) " اے ہمارے رب ! ہمیں اس سے نکال دے، ہم اچھے کام کریں گے، برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے۔" (فاطر: 37)
سورۃ المؤمن کی اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے سوال سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا اعتراف کریں گے اس امید میں کہ شاید ان کی بات مان لی جائے، کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے اپنی عظیم قدرت کے ذریعہ ہمیں دوبارہ موت دی اور دوبارہ زندہ کیا، یعنی ہم نطفوں کی شکل میں مردہ اپنے باپوں کی پٹھوں میں تھے، تو نے ہمیں زندگی دی، پھر ہم نے موت کا مزا چکھا اور اب پھر دوبارہ ہمیں زندہ کیا ہے ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو کیا ایسا ممکن ہے کہ تو دوبارہ ہمیں دنیا میں بھیج دے، تاکہ نیک عمل کریں؟ تو ان کا سوال رد کردیا جائے گا، اور اللہ ان سے کہے گا کہ تمہاری خبیث فطرتیں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں کھتی ہیں، تمہیں تو دنیا میں جب ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو انکار کردیتے تھے اور جب اس کے ساتھ غیروں کو شریک بنایا جاتا تھا تو ان کے سامنے فوراً سر نیاز جھکا دیتے تھے اس لئے اگر دوبارہ بھی تمہیں دنیا میں بھیج دیا جائے تو توحید باری تعالیٰ کا انکار کرو گے اور اس کے ساتھ غیروں کو شریک ٹھہراؤ گے تمہارے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے، نجات کی کوئی سبیل نہیں ہے، اب اپنے آپ کو کوسو، اور اپنی بدبختی پر نوحہ کرو، لیکن ان سب باتوں سے اب کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اور عذاب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔