(13) منکرین قیامت کا انجام بدبیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنین مخلصین کا ذکر کیا ہے کہ ہماری آیتوں پر حقیقی معنوں میں وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں قرآن کریم کی تلاوت کر کے جب نصیحت کی جاتی ہے تو اپنے دل کی طہارت اور فطرت کی پاکیزگی کی وجہ سے ان نصیحتوں کو فوراً قبول کرلیتے ہیں اور قرآن کریم کا ان پر ایسا اثر پڑتا ہے کہ نعمت اسلام پر شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ میں گر جاتے ہیں، اپنے رب کی پاکی اور اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اہل مکہ کی طرح اس کی عبادت سے قطعاً منہ نہیں موڑتے ہیں، بلکہ زندگی بھر اطاعت و بندگی کے جذبے اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اس کی عبادت کرتے رہتے ہیں ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ یہ آیت نماز پنجگانہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور (وسبحوابحمد ربھم) سے مراد یہ ہے کہ وہ حالت سجدہ میں ' دسبحان اللہ وبحمدہ" یا " سبحان ربی الاعلی وبحمدہ" کہتے ہیں اور (وھم لایستکبرون) سے مراد یہ ہے کہ وہ مومنین دیگر مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے سے کبر و نخوت کی وجہ سے گریز نہیں کرتے ہیں۔
ان مومنین مخلصین کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں اسی لئے جب اس کا وقت آتا ہے تو ان کے پہلوؤں کو بستروں سے دشمنی ہوجاتی ہے، فوراً اٹھ بیٹھتے ہیں اور وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں اور سجدے میں جا کر اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ اے الہ العالمین ! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے اور جنت میں داخل کر دے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مرد عشاء کی نماز ہے صحابہ کرام عشاء کی نماز سے قبل نہیں سوتے تھے۔ لیکن مشہور قول یہی ہے کہ اس سے مراد تہجد کی نماز ہے اور ان مومنین مخلصین کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ انہیں جو روزی دیتا ہے اس میں سے بھلائی کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔