(12) جب ثابت ہوگیا کہ قیامت آئے گی، لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور مشرکین مکہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی دعوت کو ٹھکرا کر تکذیب قیامت پر مصر ہیں تو اے میرے نبی ! آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے، دنیا میں فاسد عقائد اور باطل چہمیگوئیوں میں مشغول رہیں، کھائیں پئیں اوم مزے اڑائیں، اور شرک و معاصی کا ارتکاب کرتے رہیں، یہاں تک کہ قیامت کا وہ دن آجائے جس دن ان سے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔