(63) چونکہ قرآن کریم اللہ کی برحق کتاب ہے، اور حق کا جنوں اور انسانوں کے شیاطین میں سے ایک دشمن اور مخالف ضرور ہوتا ہے جو اس کے خلاف لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ جب آپ قرآن کی تلاوت کریں تو اللہ کے ذریعہ مردود و شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں۔ شوکانی کہتے ہیں کہ جب قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے شیطان کے شر سے پناہ مانگنا ضروری ہوا، تو دوسرے نیک اعمال کرنے سے پہلے اس کے شر سے پناہ مانگنا بدرجہ اولی ضروری ہوا۔ آیات (99، 100) میں بیان فرمایا کہ جو لوگ اہل ایمان ہوتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، اور راہ حق میں اذیتوں پر صبر کرتے ہیں، ان پر شیطان کے وسوسوں کا اثر نہیں ہوتا، وہ لوگ اس کی تمناؤں کو خاک میں ملا دیتے ہیں اور اس کی سازشوں کو ناکام بنا دیتے ہیں، اس کے وسوسوں کا اثر ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کی پیروی کرتے ہیں، اور اسے اللہ کا شریک بناتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔