(28) مشرکین مکہ کو اوپر جو دھمکی دی گئی ہے اسی کی مزید تاکید کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت و جلال اور کبریائی بیان کی ہے کہ یہ بات تم سے وہ اللہ کہہ رہا ہے جس کی بارگاہ میں جن و انس، حیوانات و جمادات اور فرشتے سبھی سجدہ ریز ہیں، حقی کہ ہر چیز کا سایہ بھی صبح و شام نہایت عجز و انکساری کے اتھ اس کو سجدہ کرتا ہے اور اس کی مرضی سے سر مو انحراف نہیں کرتا ہے۔
آیات (49، 50) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آسمانوں میں رہنے والے تمام فرشتے اور زمین پر چلنے والے تمام چوپائے، سب اس کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں، سبھی سا کے منشا اور ارادہ کے پابند ہیں، حیات و موت اور صحت ہر شے میں اس کے فیصلہ کے پابند ہیں، بالخصوص فرشتے اس کی عبادت اور اس کے سامنے سجدہ کرنے سے کبھی بھی انکار نہیں کرتے ہیں، اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں، جو ہر عظمت و کبریائی والا ہے اور تمام مخلوق اس کے نیچے ہے، اور اللہ کی جانب سے جو احکام و اوامر ان کے لیے صادر ہوتے ہیں انہیں پورے جذبہ بندگی کے ساتھ بجا لاتے ہیں۔ آیت (50) سے علمائے سلف نے اللہ تعالیٰ کے لیے فوقیت اور علو کی صفت ثابت کی ہے جس کی کیفیت معلوم نہیں ہے اور جو بندوں کی صفت فوقیت و علو کے مشابہ نہیں ہے۔