(33) مشرکین عرب کی اس بات کی مزدی شناعت و بشاعت واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خود ان کا حال یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجاتی ہے تو مارے شرم و خجالت کے اس کا چہرہ کالا ہوجاتا ہے، ور کرب و الم سے اس کی حالت غیر ہوجاتی ہے کہ اب وہ لوگوں کو کیسے منہ دکھائے گا، اور دو حالتوں کے درمیان حیران و پریشان ہوتا ہے کہ اسے اپنے پاس رہنے دے اور ذلت و رسوائی برداشت کرے، یا زندہ درگور کردے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا یہ فیصلہ کتنا برا ہے کہ جس لڑکی کو وہ اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھتے ہیں اسے اللہ کے لیے ثابت کرتے ہیں اور اپنے لیے اس سے بہتر یعنی لڑکا پسند کرتے ہیں۔