(10) ایک دن موسیٰ صبح کے وقت یا دوپہر کے وقت جب لوگ آرام کررہے تھے یا مغرب وعشا کے وقت کے درمیان قصر شاہی سے نکل کرشہر میں آئے جہاں عام لوگ رہا کرتے تھے، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک جگہ ایک اسرائیلی اور ایک قبطی آپس میں جھگڑ رہے تھے اسرائیلی مظلوم تھا اس نے موسیٰ کو دیکھ کر انہیں ظالم قبطی سے نجات دلانے کے لیے پکارا انہوں نے قبطی کو ایک گھونسا مار کرہٹانا چاہا، اللہ کی مشیت کہ اسی ایک گھونسا سے اس کی موت واقع ہوگئی، موسیٰ (علیہ السلام) دم بخود ہوگئے، اور فورا ان کے دماغ میں یہ بات آئی کہ جو کچھ ہوا یقینا ان کے خلاف شیطان کی سازش کا نتیجہ ہے جو انسان کو کھلا اور گمراہ کن دشمن ہے اور شدت تاثر کی وجہ سے اپنی اس غلطی کو، ظلم، سے تعبیر کیا اور اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اللہ نے ان کی اس غلطی کو معاف کردیا اور ان کے دل میں کسی خاص واسطہ یہ بات ڈال دی کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے تو انہوں نے دعا کی کہ میرے رب تو نے مجھ پر جو یہ احسان کیا ہے تو میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اب میں فرعون اور فرعونیوں کے ساتھ نہیں رہوں گا جن کا ظالمانہ رویہ اسرائیلوں کے خلاف تمام حدوں کو تجاوز کرگیا ہے اور نہ کسی اور مجرم کی کبھی مدد کروں گا۔