(4) ولید بن مغیرہ کے لئے اوپر جس وعید کا بیان ہوا ہے، اسی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے بڑا غور و فکر کیا اور اپنے دل میں وہ بات طے کرلی جو اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر اتہام دھرنے اور قرآن کریم کی آیات کے ابطال کے لئے اہل قریش کے سامنے پیش کرنی تھی۔ اللہ کی اس پر لعنت ہو، اس نے کیسے اس افترا پردازی کو اپنے دل میں جگہ دی اور وہ بات گھڑ لی جسے خود اس کے ضمیر نے قبول نہیں کیا، اللہ کی اس پر بار بار لعنت ہو، اس نے کیسے ایسی افترا پردازی کی جرأت کرلی۔
پھر اس معلون نے اس جھوٹی بات کے بارے میں غور کر کے خوب اطمینان کرلیا کہ اہل قریش اور دیگر مشرکین عرب اسے مان جائیں گے پھر اس لئے میں نے کبر و غرور اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن سے بغض و عناد کے سبب اپنی پیشانی سکڑال ی، اور اس کے چہرے پر حسد و کینہ کی سیاہی پھیل گئی، پھر اس نے حق سے منہ پھیر لیا، اور استکبار میں آ کر قرآن برحق پر ایمانل انے سے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ یہ قرآن جادو کے سوا کچھ نہیں جسے محمد دوسروں سے سیکھتا ہے، یہ اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ کسی انسان کا گھڑا ہوا کلام ہے۔