(13) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جارہا ہے کہ جو آدمی اپنی ازلی شقاوت و بدبختی کی وجہ سے کفر و شرک اور ظلم و سرکشی کی زندگی گذار رہا ہے، آپ اسے عذاب نار سے نہیں بچا سکتے ہیں، اس لئے کہ جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے وہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اس لئے اے میرے نبی ! آپ ان کے غم میں پریشان نہ رہئے، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔
شو کافی لکھتے ہیں کہ آیت میں (کلمۃ العذاب) سے مراد سورۃ ص آیت (85) میں ابلیس سے اللہ تعالیٰ کا قول: (لا ملان جھنم منک وممن تبع منھم اجمعین) اور سورۃ الاعراف آیت (18) میں اس کا قول: (لمن تبعک منھم لاملان جھنم منکم اجمعین) ہے، جن کا معنی یہ ہے کہ " اے ابلیس ! میں تجھ سے اور ان لوگوں سے جہنم کو بھر دوں گا جو تیری پیروی کریں گے۔ "