فهرس الكتاب

الصفحة 919 من 6343

(123) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبر دی ہے کہ ہدایت و گمراہی اس کے اختیار میں ہے، جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے ہدایت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے تقاضائے عدل کے مطابق گمراہ کردیتا ہے، اور ہدایت و گمراہی ہر دور کا ایک مقرر نظام ربانی ہے، جو ہدایت چاہتا ہے اور اس کی طلب صادق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے راستوں کو آسان بنا دیتا ہے ،، اور تمام اسباب مہیا کردیتا ہے، اور قبول ایمان اور اتباع اسلام کے لیے دروازوں کو کھول دیتا ہے، اور اس کا دل تنگ ہوجاتا ہے کہ ایمان کے داخل ہونے کے لیے اس میں گنجائش باقی نہیں رہتی، اور اس کی حالت اس آدمی جیسی ہوتی ہے جو ہتکلف تمام آسمان کی طرف چڑھنا چاہتا ہے، لیکن وہ ایسا نہیں کر پاتا یعنی توحید اور ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہو پاتا۔

(124) ابن عباس (رض) کہتے ہیں، یہاں"رجس"سے مراد شیطان ہے، یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کا دل تنگ بنا دیتا ہے اور اس میں نور ایمان داخل نہیں ہو پاتا اسی طرح اللہ تعالیٰ اس پر شیطان کو بھی مسلط کردیتا ہے م جو اسے ہمیشہ گمراہ کرتا رہتا ہے اور راہ حق سے روکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت