(6) اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام سے بالعموم اور اولوالعزم انبیاء یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے بالخصوص یہ عہد و پیمان لیا گیا کہ وہ اللہ کا پیغام لوگوں تک ضرور پہنچائیں گے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے، ایک دوسرے کی مدد کریں گے، آپس میں اتفاق کے ساتھ رہیں گے، اللہ کے دین کو قائم کریں گے اور اس میں اختلاف و افتراق نہیں پیدا کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران آیت (18) میں فرمایا: (واذاخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جامک رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ قال فقررتمواخذتم علی ذلکم اصری قالو اقرر ناقال فاشھدو وانا معکم من الشاھدین) " جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت دوں، پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے فرمایا کیا تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ "
اس عہد و پیمان کی مزید تصریح سورۃ الشوریٰ آیت (31) میں آئی ہے: (شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحاوالذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتتفرقوا فیہ) " مومنو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے اے میرے نبی ! آپ کی طرف بھیج دی ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ "
آیت (8) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ان صادق القول و العمل انبیاء سے ان کی امتوں کے سامنے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے اللہ کا پیغام اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا تو وہ کہیں گے کہ ہاں، اے ہمارے رب ! ہم نے تیرا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا، تو اللہ انہیں اور ان کے پیروکار مومنوں کو اچھا بدلہ دے گا،
اس سوال سے مقصود اہل کفر و شرک کو میدان محشر میں سب کے سامنے ملزمقرار دینا ہوگا ورنہ اللہ تو خوب جانتا ہے کہ ان رسولوں نے پوری امانت کے ساتھ پیغام رسانی کا کام انجام دیا تھا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں فرمایا کہ اس نے کافروں کے لئے بڑا ہی درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے جس میں وہ انہیں ہمیشہ کے لئے ڈال دے گا۔