فهرس الكتاب

الصفحة 506 من 6343

12۔ اس میں یتیموں کے مال کی حفاظت کی مزید تاکید کی گئی ہے، اور بتایا گیا ہے کہ وارث یا ولی یا حاکم کوئی بھی اگر یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے، اور قیامت کے دن اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔

ابو داود، نسائی اور حاکم وغیرہم نے ئ روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی، تو جن کے پاس ایتام تھے، انہوں نے ڈر کے مارے ان کا کھانا پینا الگ کردیا، اور جو کھانا بچ جاتا، یا تو اسے یتیم کھاتا، یا خراب ہوجاتا، یکہ چیز ان پر بڑی شاق گذری، تو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو سورۃ بقرہ کی آیت 220 ویسالونک عن الیتامی قل اصلاح لہم خیر وان تخالطوہم فاخوانکم الایہ نازل ہوئی۔ جس کا خالصہ یہ ہے کہ اگر نیت اصلاح کی ہو تو یتیموں کے کھانے کے ساتھ کھانا ملانے میں کوئی حرج نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت