فهرس الكتاب

الصفحة 4201 من 6343

(18) مرد مومن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم نے موسیٰ کو قتل کردیا تو مجھے ڈر ہے کہ تم پر بھی اللہ کا کوئی عذاب نازل ہوجائے گا جو تمہیں ہلاک کر دے گا، جیسے گزشتہ زمانوں میں ان قوموں کا انجام ہوا جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی دیگر قوموں نے تمہاری ہی طرح کا رویہ اختیار کیا تو اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب انہیں ہلاک کردیا۔

اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے بارے میں قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ آیت میں روز قیامت کو (یوم التناد) اس لئے کہا گیا کہ اس دن تمام قومیں اپنے اپنے اعمال کے ساتھ پکاری جائیں گی اور اہل جنت جنت والوں کو پکاریں گے اور اہل جہنم جہنمیوں کو بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جب زمین پھٹ پڑے گی اور قیامت کا ہنگامہ برپا ہوجائے گا تو سارے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے ہوئے ادھر ادھر بھاگنے لگیں گے، اسی لئے اس دن کو (یوم التناد) کہا گیا ہے، یعنی جس دن ایک دوسرے کو پکاریں گے۔

مفسر بغوی وغیرہ کا خیال ہے کہ مذکورہ بالا تمام ہی حالات پیش آئیں گے اور ان سب کی وجہ سے اس دن کو (یوم التناد) کہا گیا ہے۔

مرد مومن نے کہا: میں تمہارے بارے میں اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن تم حساب کے بعد از خرد میدان محشر سے جہنم کی طرف بھاگ رہے ہو گے اس دن تمہیں عذاب الٰہی سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت