فهرس الكتاب

الصفحة 293 من 6343

380: ذیل کی دونوں آیتوں کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ امام بخاری نے ابن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: جو شخص سورۃ بقرہ کی آخری دونوں آیتیں رات میں پڑھ لے گا، وہ اس کو کافی ہوں گی۔

امام احمد نے ابو ذر (رض) سے، اور مسلم نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے خزانے میں تھیں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معراج کی رات میں عطا ہوئیں۔ سورۃ فاتحہ کی فضیلت کے بیان میں بھی ان آیتوں کی فضیلت کا ذکر آیا ہے (دیکھئے سورۃ الفاتحہ کی فضیلت کا بیان)

پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھ مومنین تمام ارکان ایمان پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ مسلمان قرآن و سنت کے مطابق زندگی گذارنے کا اعلان کرتے ہیں۔

دوسری آیت میں اس بات کی خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنے کی وہ طاقت رکھتا ہے، اور یہ کہ وہ اپنے قول و فعل کا ذمہ دار ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بندے کو اپنی جناب میں گریہ و زاری اور دعا کرنے کی تعلیم دی ہے، تاکہ جو تقصیر حاصل ہوئی ہے اسے اللہ معاف کردے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کی یہ دعا قبول کرلی، جیسا کہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ جب بندوں نے یہ دعا کی تو اللہ نے کہا کہ ہاں ! میں نے قبول کرلیا، ابن عباس (رض) سے بھی ایسا ہی مروی ہے (مسلم)

(فائدہ) اس آیت سے یہ شرعی قاعدہ ماخوذ ہے کہ دین اسلام میں تمام اعمال کی بنیاد نرمی اور آسانی پر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت