(10) ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے اہل بابل کے لیے نبی بناکر بھیجا انہی میں سے ان کا باپ آزر بھی تھا انہوں نے انہیں صڑف اللہ کی بندگی کی دعوت دی، شرک ومعاصی سے ڈرایا اور کہا کہ تم لوگ للہ کے سوا جن بتوں کی پرستش کرتے ہو، اور افترپردازی کرتے ہوئے انہیں اپنا معبود سمجھتے ہو، تو یہ تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے، تمہاری روزی اور نفع ونقصان کا مالک تو صرف اللہ ہے اس لیے عبادت بھی صرف اسی کی کرو، اور اسی نے تمہیں بے شمار نعمتیں دی ہیں اس لیے شکر بھی صرف اسی کا ادا کرو اور یاد رکھو کہ مرنے کے بعد تمہیں اسی کے پاس لوٹ کرجنا ہے اپنے عمال کا حساب اسی کودینا ہوگا اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کو راضی کرو، اور اگر تم مجھے جھٹلاؤ گے تو گذشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیا کو جھٹلایا تھا اور ان کاجوانجام ہوا تھا تاریخ کے صفحات اس کے شاہد ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ آیت 18 میں مخاطب اہل مکہ ہیں، کہ اگر تم نبی کریم کی تکذیب کرو گے تو گذشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، رسول الہ کا کام تو صرف اللہ کا پیغام پوری صراحت وضاحت کے سات پہنچا دینا ہے اگر ان کی دعوت کو قبول کرلو گے تو تمہارا بھلا ہوگا، اور اگر اپنے کفر ومعاصی پر جمے رہو گے تو تمہارا انجام بھی ویسا ہی ہوگا جیسا کہ گزشتہ کافر و مشرک قوموں کا ہوا تھا۔