فهرس الكتاب

الصفحة 4541 من 6343

(17) آیت (25) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب مشرکین مکہ کے سامنے ان آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے جن میں یہ بیان آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا تو ان آیات کیت ردید کے لئے ان کے پاس ان کے اس قول کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ " اچھا اگر بعث بعد الموت کا عقیدہ صحیح ہے تو پھر ہمارے گذرے ہوئے باپ دادوں کو زندہ کر کے دکھادو۔ "

اللہ تعالیٰ نے آیت (26) میں ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی فرمایا کہ اے کفار قریش ! تمہیں زمانہ ہلاک نہیں کردیتا ہے، بلکہ اللہ تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہ تمہیں موت کے گھاٹ اتارتا ہے، اور جب قیامت کا دن آئے گا تو وہ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے میدان محشر میں اکٹھا کرے گا، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے، اس لئے کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ یقیناً دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، لیکن اکثر و بیشتر لوگ جنہیں اللہ کے قادر مطلق ہونے پر ایمان نہیں ہے اور جو اپنی تخلیق کے بارے میں غور نہیں کرتے ہیں وہ اس حقیقت کے ادراک سے قاصر ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت