(8) اوپر جو بات کہی گئی ہے کہ دونوں ہی حالتوں میں ان کی تفکیر صحیح نہیں ہوتی، اسی کی طرف اس آیت کریمہ میں لفظ " کلا" سے اشارہ کیا گیا ہے، یعنی یہ بات صحیح نہیں ہے کہ ہر ہو شخص جس کو ہم نے دنیا کی نعمتوں سے نوازا ہے وہ ہمارا چہیتا ہے اور ہر وہ آدمی جس پر ہم نے روزی کا دروازہ تنگ کردیا ہے اسے ہم نے ذلیل کردیا ہے بلکہ دونوں ہی حالتوں سے مقصود بندوں کو آزمانا ہے کہ کون شاکر و صابر ہوتا ہے اور کون ناشکر گذار اور بے صبر ہوتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہی انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہاری فکر و نظر کی جو خرابی اوپر بیان کی گئی ہے، اس سے بڑھ کر قبیح تمہارا یہ عمل ہے کہ تمہیں اپنی ذات سے بالاتر ہو کر دوسروں کے لئے بھلائی سوچنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔ تمہاری خود غرضی، مادہ پرستی اور خست نفس کا عالم یہ ہے کہ تم یتیموں کا بالکل خیال نہیں کرتے، انہیں تم اپنا مال کیا دو گے کہ ان کا مال بھی کھا جاتے ہو اور غایت درجہ کے بخل اور حب دنیا کی وجہ سے فقراء و مساکین کو کھانا کھلانے کی تم ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دلاتے ہو اور وارث بچوں اور عورتوں کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر پورا ہڑپ جاتے ہو اور ڈکار بھی نہیں لیتے ہو ابن زید کا قول ہے کہ کفار قریش عورتوں اور چھوٹیب چوں کو وراثت کا حصہ نہیں دیتے تھے پھر انہوں نے سورۃ النساء آیت (127) پڑھی (ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتاب ی یتام النساء اللاتی لا تؤتونھن ماکتب لھن وترغبون ان تکحوھن والمستضعفین من الوالدان) " آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو، اور کمزور بچوں کے بارے میں"
اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ تم مال سے شدید محبت کرتے ہو، اسی لئے تو اسے تجوریوں میں تہ بہ تہ جما کر رکھتے ہو اور غریبوں، بیواؤں، یتیموں اور بے کسوں پر خرچ نہیں کرتے ہو۔