(25) جن مشرکین مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب اور کفر و شرک اور فساد و سرکشی پر اصرار کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے، وہ لوگ گزشتہ زمانوں میں ہلاک کی جانے والی قوموں کی طرح بڑے عذاب کے سزا وار ہوگئے ہیں، وہ جلدی نہ کریں، اسے ضرور آنا ہے اور وقت مقرر پر آنا ہے، اللہ نے اپنی معلوم حکمت کی وجہ سے اسے مؤخر کر رکھا ہے، جب اس کا وقت آجائے گا تو اسے کوئی ٹال نہ سکے گا اور وہ بڑا ہی درد ناک عذاب ہوگا، اسی لئے آیت (06) میں کہا گیا ہے کہ جس عذاب کے دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ کافروں کے لئے ہلاکت و بربادی کا دن ہوگا، مفسرین لکھتے ہیں کہ اسے مراد یا تو روز قیامت ہے، یا غزوہ بدر جب مشرکین مکہ کے کشتوں کے پشتے لگ گئے تھے، مفسر ابوالسعود نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے۔ وباللہ التوفیق