46۔ شرک باللہ کے علاوہ اصحاب مدین ایک بڑا گناہ یہ کرتے تھے کہ ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ یعنی کسی کو دینے کے وقت کم اور کسی سے لیتے وقت زیادہ تولتے تھے، اور لوگوں سے ان کا مال قرض یا ادھار لیتے اور جب واپس کرتے تو حتی الامکان کم دینے کیکوشش کرتے، اور اس کے لیے ہزار طریقے اختیار کرتے، اور مسافروں اور راہ چلتے لوگوں کا مال و اسباب چھین لیتے تھے، ان کا یہ عمل ان کی دناءت و کمینگی، ان کی گھٹیا ذہنیت اور دنیا سے انتہا درجہ کی محبت پر دلالت کرتا تھا۔
شعیب (علیہ السلام) نے انہیں شرک باللہ سے منع کیا، توحید کی دعوت دی، اور ان کے مذکورہ بالا اعمال کی قباحت و شناعت بیان کر کے عدل و انصاف کی دعوت دی، اور انہیں نصیحت کی کہ جب دوسروں کے لیے ناپو تو پورا ناپو، ناپ تول میں کمی نہ کرو، عدل و انصاف کے ساتھ وزن کرو، قسطاس المستقیم کی تفسیر سورۃ الاسراء آیت 35 میں گذر چکی ہے۔ اور لوگوں کے حقوق و اموال واپس کرتے وقت کٹوتی نہ کرو، اور لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے ذریعہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اصحاب مدین اور شعیب (علیہ السلام) کا یہ واقعہ سورۃ الاعراف آیت 85 اور سورۃ ہود آیات 84 85 میں گذر چکا ہے۔