فهرس الكتاب

الصفحة 5804 من 6343

(6) یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور فعرون کا واقعہ ذکر کرنے سے مقصود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینی ہے کہ اگر آپ کی قوم، قوم قریش کے لوگ آپ کی اور آپ کی دعوت توحید کی تکذیب کر رہے ہیں، تو فرعون اور فرعونیوں نے بھی موسیٰ کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا تھا اور اللہ نے انہیں غرقاب کردیا تھا، تو کیا بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل قریش کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کرے اور انہیں ہلاک کردے۔

اور استفہامی طرز تعبیر سیمقصود یا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موسیٰ اور فرعون کا واقعہ سننے کی ترغیب دلانی ہے، اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان آیات کے نزول سے پہلے اس واقعہ کی خبر نہیں تھی اور اگر خبر تھی تو مقصود یاد دہانی کرانی ہے کہ آپ کو موسیٰ اور فرعون کے واقعہ کی تو خبر ہے ہی، اسے یاد کر کے اپنے دل کو تسلی دیجیے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! کیا آپ کو موسیٰ بن عمران کے واقعے کی خبر ہے، جب انہوں نے پاک اور مقدس وادی (طویٰ) میں اپنے رب کو پکارا، تو ان کے رب نے انہیں بتایا کہ اس کے سوا ان کا کوئی معبود نہیں اور انہیں صرف اپنی عبادت کا حکم دیا، پھر انہیں حکم دیا کہ وہ شاہ مصر (فرعون) کے پاس جائیں جس نے سرکشی کی راہ اختیار کرلی ہے اور اللہ کے بندوں کو اپنی بندگی پر مجبور کردیا ہے اور اس سے کہیں کہ میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ تم ظلم و سرکشی اور شرک باللہ سے تائب ہوجاؤ اور گناہوں سے بچو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت