(14) جن مومنین کی مذکورہ بالا آیتوں میں صفتیں بیان کی گئی ہیں، انہی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کے رب نے ان کے لئے روز قیامت جو نعمتیں چھپا رکھی ہیں، جنہیں اس دن پاکر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان نعمتوں کا اس دنیا میں وہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:" میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہے جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے، اور نہ کسی انسان کے دل نے اس کا تصور کیا ہے" ابوہریرہ (رض) نے کہا: اگر چاہو تو تم لوگ یہ آیت پڑھو: (لاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین)
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسانی خیالات و تصورات سے بالا تر یہ نعمتیں انہیں ان نیک اعمال کی وجہ سے ملیں گی جو وہ دنیا کی زندگی میں کرتے رہے تھے۔
(آیت) (81) میں منکرین قیامت اور مومنین مخلصین کا فرق بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا مومن و فاسق اللہ کے نزدیک برابر ہو سکتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ بات اس کے قانون عدالت کے خلاف ہے۔
آیات (91/02) میں گزشتہ باتوں کی تائید اور مومن و کافر کے مراتب کا بیان ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے، اللہ تعالیٰ انہیں بطور اجر و ثواب جنت عطا کرے گا جس میں وہ ہمیشہ کے لئے اقامت پذیر ہوجائیں گے اور جو لوگ اس دنیا میں فسق و معصیت کی زندگی اختیار کریں گے، ان کا ٹھکانا جہنم و گا جب بھی شدت غم اور انتہائے کرب و الم کی وجہ سے اس سے نکل کر بھاگنا چاہیں گے، جہنم کے فرشتے انہیں مار مار کر دوبارہ اس میں لوٹا دیں گے اور ان کی ذلت و رسوائی بڑھانے کے لئے ان سے کہیں گے کہ اب چکھو اس عذاب نار کا مزا جس کی تم دنیا میں تکذیب کرتے رہے تھے۔