(6) جب قیامت کا آنا یقینی ہے، اس دن نیک و بد اعمال کی جزا و سزا یقینی ہے اور جنت و جہنم و ہم و خیال نہیں بلکہ امر واقع اور موجود ہے تو پھر ان مشرکین قریش کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے گناہوں سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوجاتے اور انہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو رب العالمین کے لئے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے سجدے میں نہیں گرجاتے۔