فهرس الكتاب

الصفحة 4261 من 6343

(4) اور یہ قرآن کریم اس میں غور و فکر کرنے والوں اور اس میں مذکور اوامرونواہی پر عمل کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتا ہے اور جو لوگ اس سے منہ موڑتے ہیں، انہیں نار جہنم میں ہمیشہ جلتے رہنے کی دھمکی دیتا ہے، لیکن اکثر اہل قریش نے اس سے اعراض کیا اور اس پر کوئی توجہ نہیں دی، اور غرور استکبار کی وجہ سے اسے سننا بھی گوارا نہیں کیا اور اگر کبھی سن بھی لیاتو کفر وا ستکبار کی وجہ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں جب بھی قرآن سنانا چاہا تو استہزاء کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دلوں پر کئی پردے پڑے ہیں تاکہ تم جس عقیدہ توحید اور بعث بعد الموت اور جزا و سزا کی بات کرتے ہو اسے ہم سمجھ نہ سکیں اور ہمارے کان بہرے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ حائل ہے، اس لئے نہ ہم تمہاری بات سنتے ہیں اور نہ جو تم کرتے ہو اسے دیکھ پاتے ہیں، اس لئے جس طرح ہم نے تمہیں چھوڑ رکھا ہے، تم بھی ہمیں چھوڑ دو اور ہمیں اپنا قرآن سنانے کی کوشش نہ کرو، تم اپنے دین پر چلتے رہو، اور ہم اپنے دین پر چلتے رہیں گے اور اپنے عقیدہ کی حفاظت کرتے رہیں گے۔

شو کافی لکھتے ہیں کہ ان مثالوں سے قرآن کریم کا مقصود یہ بتانا ہے کہ ان کے دل قبول حق سے کو سوں دور تھے اور چاہتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے بالکل دور ہوجائیں اور کسی طرح کا اتصال نہ رکھیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت