(26) اس کا تعلق مشرکین مکہ کی گزشتہ بات سے ہے کہ وعدہ آخرت کی کوئی حقیقت نہیں ہے، انہوں نے کہا اے محمد اور اس کے ماننے والو ! اگر تمہیں اپنے سچا ہونے کا دعوی ہے تو پھر بتاؤ تو سہی کہ وہ وقت کب آئے گا؟ مشرکین یہ بات نبی کریم کا مذاق اڑانے کے لیے کہتے تھے۔ تو اللہ نے اپنے نبی کی زبان ان کا جواب دیا کہ جس عذاب کی تمہیں جلدی ہے اس کا کچھ حصہ عنقریب ہی تم پر نازل ہونے والا ہے، چنانچہ میدان بدر میں گاجر مولی کی طرح کاٹے گئے اور جو باقی بچ گئے وہ قید کرلیے گئے۔