(12) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی رسالت کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ لوگ اللہ کی زمین میں گھوم کر ان قوموں کا انجام کیوں نہیں دیکھتے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی، تو اللہ نے انہیں عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیا، حالانکہ وہ لوگ کفار قریش سے زیادہ طاقت ور تھے، انہوں نے زمین کو آباد کرنے کے لئے بڑی بڑی عمارتیں بنائی تھیں اور دنیاوی اعتبار سے خوب کامیاب تھے، لیکن جب اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کا مواخذہ کیا، تو انہیں کوئی بچا نہ سکا، ان کا یہ انجام اس لئے ہوا کہ ان کے پاس انبیائے کرام توحید و رسالت کے اثبات میں بڑی واضح نشانیاں اور صریح دلائل لے کر آئے، لیکن انہوں نے انکار کردیا تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا اور ہلاک کردیا، اس ذات برحق کا مقابلہ کون کرسکتا ہے، وہ تو بہت زبردست قوت والا اور بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔