(8) اس دن جس کا صحیفہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا، اور مارے خوشی کے اپنے آس پاس کے لوگوں سے کہے گا کہ ذرا میرا صحیفہ لو، اور اسیپ ڑھو تو سہی، اس سے تو روشنی پھوٹ رہی ہے، اس میں گناہوں کی سیاہی نہیں نظر آرہی ہے۔ مجھے دنیا میں اس بات کا یقین تھا کہ قیامت کے دن مجھے اپنے اعمال کا بدلہ ضرورملے گا، اسی لئے میں نے ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ اس دن کے لئے تیاری کی تھی، اور گناہوں سے بچاتھا اور اگر کبھی نادانی کی وجہ سے کسی گناہ کا ارتکاب کیا تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کیا اور اس گناہ سے تائب ہوا، تو وہ گناہ میرے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا گیا۔