(44) کفار قریش کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی بہت ساری سورتوں میں گزشتہ زمانوں کی کافر اقوام کے انجام بد بیان کئے ہیں، تاکہ ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنے کفر و شرک سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں، فرمایا کہ وہ قومیں کفار قریش سے تعداد میں زیادہ تھیں، جسمانی اعتبار سے ان سے زیادہ قوی، اور مالی اعتبار سے ان سے بہت اچھی حالت میں تھیں، انہوں نے اپنے شہروں میں بلڈنگیں بنائیں، فیکٹریاں قائم کیں اور زراعتی میدان میں خوب ترقی کی، لیکن جب اللہ کا عذاب آیاتو اسے کوئی نہ ٹال سکا، اس لئے جب اللہ کے انبیاء ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور بزعم خود اپنے علم اور اپنی سمجھ کو انبیاء پر نازل شدہ وحی سماوی پر ترجیح دی، مجاہد کہتے ہی، انہوں نے کہا کہ ہم ان نبوت کا دعویٰ کرنے والوں سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ نہ ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے اور نہ ہمیں عذاب دیا جائے گا۔
اور جب عذاب الٰہی نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور بچ نکلنے کی کوئی صورت باقین ہیں رہی، تو اپنی توبہ کا اعلان کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ ہم ایک اللہ پر ایمان لے آئے اور ان تمام طاغوتی طاقتوں کا انکار کرتے ہیں جنہیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے، لیکن وہ توبہ ان کے کام نہ آئی اور وہ ایمان انہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکا، جیسا کہ فرعون کے ساتھ ہوا کہ جب اس نے موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو پکار اٹھا کہ میں ایمان لے آیا کہ اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل کے لوگ ایمان لے آئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول نہیں کی اور کہا کہ اب کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ تم اب تک نافرمان رہے ہو اور زمین میں فساد پھیلاتے رہے ہو۔
اسی لئے آیت (85) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر اس قوم کے بارے میں اللہ کا یہی فیصلہ رہا ہے جس نے عذاب دیکھ کر توبہ کی، یعنی اس کی توبہ قبول نہیں کی گئی اور اسے ہلاک کردیا گیا۔