(10) اللہ تعالیٰ یقیناً اس پر قادر ہے کہ وہ کافروں کو ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک و برباد کر دے، لیکن مخلوق کے ساتھ اپنے لطف و کرم اور رحمت و مہربانی، اور غایت حلم و برد باری کی وجہ سے ان سے عذاب کو ٹال دیتا ہے اور انہیں توبہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کر کے اپنے نافرمان بندوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ اللہ جو اپنی مخلوقات سے بنلد و بالا اور عرش پر مستوی ہے، اس کی گرفت سے تمہیں بے خوف نہیں ہوجانا چاہئے، وہ تو اس پر قادر ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور زمین اتنی شدت سے ہلنے لگے کہ وہ تمہارے اوپر آجائے اور تم اس کے اندر پلٹاکھاتے رہو اور وہ اس پر بھی قادر ہے کہ تمہیں ہلاک کرنے کے لئے ایک تیز و تند ہوا بھیج دے، جو کنکریوں اور پتھروں کی تم پر بارش کر دے اور تم یکسر ہلاک ہوجاؤ، اور تب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ عذاب کیسے آتا ہے جس سے تمہیں ہمارے انبیاء ڈرایا کرتے تھے۔
آیت (18) میں مذکورہ بالا دھمکی کی تاکید کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موجودہ دور کے کافروں سے قبل بھی جب کسی کافر قوم نے اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی، تو اللہ نے اس کے کفر و تکذیب کو قبول نہیں کیا اور اسے ہلاک کردیا اس لئے اے وہ لوگو جو اپنے رب کی نافرمانی کر رہے ہو اور کفر کی راہ پر چل پڑے ہو ! تم اپنے کفر و سرکشی سے باز آجاؤ، کہیں تمہیں بھی اللہ کا عذاب اپنی گرفت میں نہ لیل ے۔