(14) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے کہ وہی تنہا معبود حقیقی ہے، اس لئے بندوں کو اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی کا شکر بجا لانا چاہئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ لوگوں کو بتا دیں کہ تنہا ذات باری تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے، ان کی تخلیق میں کوئی اس کا معاون و مددگار نہیں تھا اور نہ اسے کسی کی مدد کی ضرورت تھی اسی نے ان کے کان، آنکھیں اور دل بنائے جو ان کے جسموں کے اہم ترین اعضاء ہیں اور انہیں سب سے اچھی شکل و صورت میں پیدا کیا، ان نعمتوں کا تقاضا تھا کہ لوگ اس منعم حقیقی کے شکر گزار بنتے، لیکن ان میں سے بہت ہی کم لوگ اپنے رب کے شکر گزار ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بھی بتا دینے کا حکم دیا کہ اسی نے تمہیں پیدا کر کے زمین میں پھیلا دیا اور تمہیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازا جن سیتم اپنی زند گی میں فائدہاٹھاتے ہو اور جب تمہاری دنیاوی زندگی کے ایام پورے ہوجائیں گے تو وہ تمہیں یہاں سے اٹھا لے گا اور پھر قیامت کے دن زندہ کر کے اپنے سامنے اکٹھا کرے گا۔
لیکن منکرین بعث بعد الموت، انبیاء کی تکذیب کرتے ہوئے کہت یہیں کہ اگر تمہاری بات سچی ہے تو ذرا ہمیں اسکی آمد کا وقت تو بتا دو گویا قیامت کی آمد کا وقت بتا دینا کافروں کے نزدیک انبیاء کی صداقت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو انہیں یہ کہنے کا حکم دیا کہ اس کی آمد کا وقت تو صرف اللہ کو ہی معلوم ہے اور اس بات کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ بات سچی نہیں ہے بات یقیناً سچی ہے اور قیامت کی آمد میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں اس کی بہت سی نشانیاں اور دلائل بیان کردیئے ہیں، جن میں غور و فکر کرنے والوں کے دلوں میں اس کی صداقت کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔