6 کفار مکہ بعث بعد الموت اور قیامت کے دن جزا و سزا کا انکار مختلف انداز میں کرتے تھے ایک ادناز یہ بھی تھا کہ وہ خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے کے لئے بھی یہ موضوع چھیڑتے تھے اور اپنے ہی جیسے دیگر کافروں سے کہتے تھے کہ کیا تمہیں ایک ایسا آدمی دکھاؤں جو اپنے مجنونانہ افکار و خیالات میں اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ کہتا پھرتا ہے کہ جب ہم لوگ مر کر مٹی میں گل سڑ جائیں گے، تو اللہ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر اس کے پاس کچھ عقل و خرد ہے تو وہ اللہ پر افترا پردازی کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے یہ بات بذریعہ وحی بتائی ہے، یا پھر واقعی اسے جنون لاحق ہوگیا ہے جس کے زیر اثر اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے متعلق اس استہزاء آمیز بات اور انکار آخرت دونوں کا جواب ان کا انجام بتا کردیا، یعنی ان کی بات اس قابل ہے ہی نہیں کہ اس کے صدق و کذب سے متعلق بات کی جائے، بس انہیں جان لینا چاہئے کہ قیامت کے دن انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی کہ وہ اپنی گمراہی میں بہت دور جا چکے ہیں، جہاں سے راہ راست کی طرف ان کے لوٹ کر آنے کی اب کوئی توقع نہیں ہے۔