فهرس الكتاب

الصفحة 2115 من 6343

(42) قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے اور جزا و سزا کے عقیدہ کو انسانوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے فرمایا کہ آپ اس دن کو یاد کیجیے جب ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں کے نام کے ساتھ پکاریں گے۔

مفسرین نے امام کے کئی معنی بیان کیے ہیں۔ بعض نے اس سے مراد نبی لیا ہے، بعض نے ہر زمانے کا دینی پیشوا، بعض نے وہ کتاب الہی جو ہر قوم کے لیے نازل ہوئی تھی، بعض نے اس سے دین مراد لیا ہے۔ ابن عباس، حسن، قتادہ اور ضحاک وغیرہم نے اس سے مراد ہر آدمی کا نامہ اعمال لیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ اسی کی تائید سورۃ الانشقاق کی آیت (7) سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (فاما من اوتی کتابہ بیمینہ) اور سورۃ یسین آیت (12) میں فرمایا ہے: (وکل شیء احصینہ فی امام مبین) اور سورۃ الجاثیہ آیت (28) میں فرمایا ہے: (کل امۃ تدعی الی کتابھا) ہر اکو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔

صاحب محاسن التنزیل لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اصحاب الحدیث کے لیے بہت بڑا شرف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن کے جب سارے انسان اپنے اپنے اماموں اور پیشواؤں کے ناموں سے پکارے جائیں گے تو اصحاب حدیث نبی کریم کے نام سے پکارے جائیں گے اس لیے کہ ان کے امام اور پیشوا وہی ہیں۔

اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اسے پڑھیں گے اور اس میں اپنے اعمال صالحۃ کو دیکھ کر نہایت خوش ہوں گے، اور ان کے اجر و ثواب میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جیسا کہ سورۃ مریم آیت (60) میں آیا ہے: (ولا یظلمون شیئا) کہ عدل و انصاف والے اللہ کی جانب سے ان پر قطعی ظلم نہیں ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت