(30) قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے اور اس کی اہمیت جتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ قیامت کے دن اس قرآن پر ایمان لانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کے درمیان عدل و حکمت کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اور وہ ایسا غالب ہے کہ کوئی باطل پرست اس کے فیصلے سے بھاگ نہیں سکے گا، اور وہ ایسا علام الغیوب ہے کہ حق و ناحق کو خوب جانتا ہے اس کے فیصلے میں غلطی نہیں ہوسکتی ہے، اسی لیے آیت (79) میں آپ کو کہا گیا کہ آپ اللہ پر بھروسہ کر کے دعوت و تبلیغ کا کام کیے جائیے، اور اس یقین کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھیے کہ آپ ایسے واضح حق پر ہیں جس کی صداقت میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں اس آیت کریمہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ حق پرست کو اس بات کا یقین رکھنا چاہئیے کہ اللہ اس کی ضرور مدد کرے گا، اور باطل سرنگوں ہو کر رہے گا۔
نبی کریم کو مزید اطمینان دلانے کے لیے آیات (80، 81) میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ دعوت اسلامیہ سے وہی لوگ مستفید ہوں گے جو قرآن کریم پر ایمان لائیں گے اور اللہ کے دین کو دل سے قبول کرلیں گے آپ اس فکر میں ہر دم پریشان نہ رہیں کہ سبھی لوگ آپ کی دعوت کو کیوں نہیں قبول کرلیتے ہیں۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ کفار مکہ قرآن کریم کو اپنے ظاہری کانوں سے سنتے تھے، لیکن ان پر اس کا رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا تھا، اسی لیے انہیں مردوں اور بہروں سے تشبیہ دیا گیا، اور ان کی گمراہی دائمی تھی، ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی امید نہیں تھی، اسی لیے انہیں اندھوں سے تشبیہ دیا گیا اور ہر دور میں جن کے لیے ضلالت و گمراہی لکھ دی جاتی ہے اور جن کے دلوں پر کفر کی مہر لگا دی جاتی ہے ان کا ایسا ہی حال ہوتا ہے۔