فهرس الكتاب

الصفحة 4352 من 6343

(25) اوپر کی آیت میں مومنین اہل جنت کی دسویں صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ظلم کو قبول نہیں کرتے ہیں اسی مناسبت سے یہاں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ ظالم کو اس کے ظلم کے مطابق ہی سزا دیتے ہیں، زیادتی نہیں کرتے ہیں۔

آگے فرمایا کہ بہر حال عفو و درگذر سے کام لینا اور دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کر جانا اللہ کو زیادہ پسند ہے، اور وہ اپنے ایسے بندوں کو اچھا بدلہ دیتا ہے اور ظلم و تعدی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔

جو شخص ظلم کو قبول نہیں کرتا اور اس پر جتنی زیادتی ہوئی ہوتی ہے اتنا بدلہ لے لیتا ہے تو اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا، مواخذہ تو ان کا ہوگا جو دوسروں پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں اور زمین میں ناحق فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں اور اگر اپنے کئے پر نادم نہیں ہوں گے اور اللہ کے حضور تائب نہیں ہوں گے تودنیاوی مواخذہ کے بعد آخرت میں بھی درد ناک عذاب سے دوچار ہوں گے۔

آیت (40) میں جو بات کہی گئی تھی، آیت (43) میں اسی کو مزید تاکید کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کی اذیت کو برداشت کرے گا، اسے معاف کر دے گا اور بدلہ نہیں لے گا وہ بہرحال اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل ستائش ہوگا، اس لئے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس عظیم صفت کے ساتھ متصف ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت