فهرس الكتاب

الصفحة 3596 من 6343

(27) امہات المومنین کی مزید فضیلت بیان کرنے کے لئے اور انہیں اس بات کا احساس دلانے کے لئے کہ ان سے کوء ایسا قول یا فعل سر زد نہ ہو جس سے خاتم النبین کی عزت پر آنچ آئے اور دنیا والوں کو آپ کے گھرانے کے خلاف چہ میگوئیاں کرنے کا موقع ملے، اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے میرے نبی کی بیویو ! تم دنیا کی عام عورتوں سے مختلف ہو، تم بہت ہی معزز خواتین ہو، تمہارا مقام بڑا ہی اونچا ہے، تم خاتم النبین کی بیگمات ہو، تمہیں اپنی قدر و منزلت کا پاس رکھنا چاہئے، تم اپنے مقام کی حفاظت اسی صورت میں کرسکو گی کہ صلاح و تقویٰ کو اپنی زندگی کا شعار بنا لو گی، اس لئے اجنبی لوگوں سے باتیں کرتے وقت ایسا اسلوب اور اندازنہ اختیار کرو کہ جن کے دلوں میں فسق و فجور کی بیماری ہو، وہ تمہارے بارے میں غلط شبہ کرنے لگیں، صرف ایسا اسلوب اور انداز نہ اختایر کرو کہ جن کے دلوں میں فسق و فجور کی بیماری ہو، وہ تمہارے بارے میں غلط شبہ کرنے لگیں، صرف ضرورت کے مطابق بات کرو اور ایسا لہجہ اختیار کرو جو ہر شک و شبہ سے دور ہو۔

آیت (33) میں اللہ نے فرمایا: اور اپنے گھروں میں رہا کرو، صرف ضرورت سے ہی نکلا کرو اور جب نکلو تو ایام جاہلیت کی عورتوں کی طرح بن ٹھن کر بے پردہ نہ نکلا کرو۔ مفسرین نے " تبرج" کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ عورت مٹکتی ہوئی اور زینت کا اظہار کرتی چلے جس سے مردوں کی جنس خواہش بھڑکے، ایسے باریک اور عریاں لباس پہنے جس سے اس کے جسم کا پردہ نہ ہو، اور کوشش کرے کہ اس کی گردن، ہار اور بالیاں وغیرہ لوگوں کو دکھائی دیں۔

نیز فرمایا کہ تم سب نماز قائم کرو، یعنی تمام شروط، ارکان اور واجبات کا لحاظ رکھتے ہوئے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ، صحیح اوقات میں ساری نمازیں ادا کرو اور اگر اللہ مال دے تو زکاۃ دو اور اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اوامرونواہی کی پابندی کرو،

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا کہ تمہیں جن اچھی باتوں کی نصیحت کی گئی ہے اور جن برائیوں سے روکا گیا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں ایسے گناہ اور گندگی سے دور رکھا جائے جو نبی کے گھرانے کے شایان شان نہیں ہے اور تمہیں ہر اس قول و فعل سے مکمل طور پر پاک کردیا جائے جس سے روح کی بالیدگی متاثر ہوتی ہے۔

یہ آیت اس بارے میں صریح ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات " اہل بیت" میں شامل ہیں، صحیح مسلم میں عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن صبح کے وقت کالے بال کی بنی ایک چادر اوڑھے نکلے حسن آئے تو انہیں اس میں داخل کرلیا، پھر حسین آئے تو انہیں اس میں داخل کرلیا، پھر فاطمہ آئیں تو انہیں اس میں داخل کرلیا، پھر علی آئے تو انہیں اس میں داخل کرلیا، پھر آپ نے فرمایا کہ اے اہل بیت ! اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا چاہتا ہے اور تمہیں مکمل طور پر پاک کرنا چاہتا ہے۔

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چاروں افراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھرانے میں شامل ہیں۔ لیکن یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ " اہل بیت" کا اطلاق صرف انہی چاروں پر ہوگا۔ اسی لئے ارجح یہی ہے کہ نبی کریم کی ازواج مطہرات " اہل بیت" میں قرآن کی صریح نص کے ذریعہ داخل ہیں اور فاطمہ علی اور حسن و حسین صحیح حدیث کے مطابق حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بارے میں نص صریح ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج " اہل بیت" میں داخل ہیں، اس لئے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہی بیان کرتا ہے، اور جو بات آیت کے نزول کا سبب بہوتی ہے وہ آیت کے حکم میں بدرجہ اولیٰ داخل ہوتی ہے۔

آیت (34) میں امہات المومنین کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کے گھروں میں قرآن کریم کی جن آیات کی تلاوت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جن سنتوں کا ذکر ہوتا رہتا ہے جو خیر و برکت کا ذریعہ اور آداب و اخلاق عالیہ کا سرچشمہ ہیں، ان میں غور و فکر کرو اور ان سے نصیحت حاصل کرو، یا مفہوم یہ ہے کہ اس نعمت کو تم سب یاد کرتی رہو کہ اللہ نے تمہیں نبی کے گھر میں جگہ دی ہے، جہاں قرآن و سنت کا ذکر ہوتا رہتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت