فهرس الكتاب

الصفحة 4159 من 6343

39 کفار مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ بتوں کی پرستش تمہارے آباء و اجداد کا دین ہے، اس لئے تم اپنے رب کی عبادت کرو اور بتوں کی بھی عبادت کرو اور ہم بھی تمہاری خاطر تمہارے رب کی عبادت کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کی اس رائے کی پوری صراحت کے ساتھ تردید کردیں اور کہہہ دیں کہ اے نادانو ! کیا تم غیر اللہ کی عبادت کی طرف بلاتے ہو، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔

آیت (65) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو بذریعہ وحی یہ بات بتا دی گئی تھی کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے سارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جو قیامت کے دن حقیقی گھاٹا اٹھانے والے ہوں گے۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ یہ آیت (شرک پر موت) کے ساتھ مقید ہے، جیسا کہ سورۃ البقرہ آیت (217) میں آیا ہے: (ومن یرتدد منکم عن دینہ قیمت وھو کافر فاؤلئک حبطت اعمالھم فی الدنیا و الاخرۃ) " اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ "

آیت (66) میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ مضون کی تکمیل کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ صرف اللہ کی عبادت کیجیے اور توحید و نبوت اور دعوت و رسالت جیسی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے رہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت