فهرس الكتاب

الصفحة 2500 من 6343

62۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو بھیج کر ور قرآن کریم نازل کر کے اب کسی مشرک و کافر کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رکھا ہے، یہی بات اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے کہ اگر ہم لوگوں کو بعثت نبی اور نزول کتاب سے پہلے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ہلاک و برباد کرنے سے پہلے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہیں بھیج دیا تھا، تاکہ ہم ایمان لے آتے، لیکن اب جبکہ ہم نے اپنا آخری رسول بھیج دیا ہے اور اپنی آخری کتاب نازل کردی ہے، تو ایمان لانے سے اب ان کے لیے کون سی چیز مانع ہے۔

آیت (135) میں نبی کریم کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ سرکش کافروں سے کہہ دیجیے کہ ہم اور تم سبھی اپنے انجام کے منتظر ہیں، انتظار کرلو، جب مسلمانوں کو عنقریب فتح و نصرت حاصل ہوگی تو جان لو گے کہ کون دین اسلام پر قائم تھا، کسے اللہ نے راہ نجات کی طرف ہدایت دی اور کون گمراہ ہو کر ہلاک و برباد ہوا۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا، مسلمان آہستہ آہستہ غالب ہوگئے گئے اور کفار و مشرکین جزیرہ عرب سے ناپید ہوگئے۔ فللہ الحمد

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت