(14) ان کا یہ انجام بد اس لئے ہوگا کہ وہ دنیا کی زندگی میں جسمانی لذتوں اور شہوتوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور کبر و غرور اور شرک و معاصی ان کا چلن تھا، وہ لوگ بڑے بڑے گناہ کرتے تھے اور ان پر نادم ہو کر اللہ کے حضور ان سے تائب نہیں ہوتے تھے۔
حسن، ضحاک اور ابن زید وغیر ہم نے (الجنث العظیم) سے شرک مراد لیا ہے، یعنی وہ لوگ شرک کا ارتکاب کرتے تھے اور اس سے تائب نہیں ہوتے تھے۔
اور وہ لوگ بعث بعد الموت کو بعید از عقل سمجھتے تھے کہتے تھے یہ ممکن نہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں گل سڑ جائیں گے اور ہماری صرف ہڈیاں رہ جائیں گی تو ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے جیسا کہ سورۃ النحل آیت (38) میں آیا ہے: (واقسموا باللہ جھد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت) " وہ اللہ کے نام کی بڑی بڑی قسمیں کھاتے تھے کہ جو آدمی مر جائے گا اللہ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ "
اور وہ لوگ اپنے آپ سے زیادہ اپنے ان باپ دادوں کے زندہ کئے جانے کو بعید از عقل سمجھتے تھے جن کو مرے ہوئے ایک زمانہ بیت گیا تھا۔