(19) سرکش ونافرمان قوموں کی ہلاکت کا ذکر آنے کے بعد مناسب معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض قوموں کے حالات کچھ تفصیل کے ساتھ بیان کئے جائیں۔ چنانچہ اس ضمن میں یہاں سات انبیائے کرام اور ان کی قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔
سب سے پہلا واقعہ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ہے:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح نے ہمیں اپنی قوم کے خلاف مدد کے لئے پکارا (جیسا کہ سورۃ المومنون آیات(62 اور 93) میں آیا ہے: (قال رب انصرنی بماکذبون) " نوح نے دعا کی اے میرے رب ! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر اور سورۃ القمر آیت (01) میں آیا ہے: (قدعا ربہ انی مغلوب فانتصر) " نوح نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں، تو میری مدد فرما" تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی (اس لئے کہ ہمارے سوا کون کسی پریشان حال کی پکا رسن سکتا ہے) اور انہیں اور ان کے خاندان والوں کو (ان کی بیوی اور بیٹے کنعان کے سوا) طوفان عظیم سے بچا لیا اور ان کی نسلوں کو دنیا میں باقی رکھا چنانچہ قوم نوح کی ہلاکت کے بعد دوبارہ پوری دنیا نوح کے تین بیٹوں، سام، حام اور یافث کی اولاد سے آباد ہوئی۔