فهرس الكتاب

الصفحة 4891 من 6343

(27) اس آیت کریمہ میں " نذیر" سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزشتہ رسولوں کی طرح تمہارے لئے ایک رسول ہیں، جن کی بعثت کا مقصد تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے، جس طرح ان رسولوں نے اپنی قوموں کو ڈرایا تھا، ابن جریج اور محمد بن کعب وغیرہ ہماکا یہی قول ہے اور قتادہ کے نزدیک " نذیر" سے مراد قرآن کریم ہے، اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ ! یہ قرآن تمہیں اسی عذاب سے ڈرا را ہے جس سے گزشتہ آسمانی کتابوں نے قوموں کو ڈرایا تھا۔ اور بعض مفسرین نے آیت کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ مذکورہ بالا آیتوں میں گزشتہ سرکش قوموں کی ہلاکت کے جو قصے سنائے گئے ہیں، ان سے مقصود امت محمدیہ کو ڈرانا ہے کہ اگر اس نے بھی اللہ کی نافرمانی کی تو اس پر بھی عذاب الٰہی آسکتا یہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت