5۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی اور مشرکین مکہ کی تنبیہ کے لیے ساتھ انبیائے کرام اور ان کی قوموں کے واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ یہ واقعات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے باعث تسلی یوں تھے کہ جس طرح قریش نے آپ کو جھٹلا دیا تھا، اسی طرح طرح گذشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی تھی، اور انہوں نے دعوت کی راہ میں تکلیفوں پر صبر کیا تھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان ظالم قوموں کو ہلاک کردیا تھا، اور مشرکین کے لیے تنبیہ اس طور پر تھی کہ کہیں فرعونیوں اور دیگر کافر قوموں کی طرح تمہیں بھی ہلاک نہ کردیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ کے رب نے موسیٰ کو کوہ طور کے پاس آواز دی (جس کی تفصیل سورۃ طہ آیت(11) اور اس کے بعد والی آیتوں میں گذر چکی ہے) اور کہا کہ آپ ظالم قوم، قوم فرعون کے پاس جائیے اور ان سے کہئے، کیا انہیں اللہ کے عذاب کا خوف نہیں ہے کہ کفر و سرکشی پر اصرار کر رہے ہیں، اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں؟ تو موسیٰ نے اس عظیم ذمہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی ناتوانی کا اظہار کیا، اور اللہ سے دعا کی کہ میرے رب ! مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے جس کے نتیجے میں میں تنگ دل ہوجاؤں گا، اور میری زبان میں جو لکنت پائی جاتی ہے، اس کے سبب پیغام رسانی کی ذمہ داری نہیں پوری کرسکوں گا، اس لیے میرے رب ! تو جبریل کو میرے بھائی ہارون کے پاس وحی دے کر بھیج دے، تاکہ وہ بھی تیرا رسول ہوجائے اور میری مدد کرے۔ سورۃ طہ آیات 29، 30 میں آیا وجعل لی وزیرا من اھلی ھارون اخی۔ میرے ھرانے سے میرا ایک وزیر مقرر کردے، میرے بھائی ہارون کو مقرر کردے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب نبی بنائے گئے تو وہ شام میں اور ہارون مصر میں تھے