فهرس الكتاب

الصفحة 5250 من 6343

(1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! جب عبداللہ بن ابی بن سلول اور دیگر منافقین آپ کی مجلس میں آتے ہیں تو اپنی زبان سے مسلمان ہونے کا اظہار کرتے ہیں اور آپ کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں " ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں" اللہ تعالیٰ نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں، چاہے منافقین اس کی گواہی دیں یا نہ دیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین اپنی گواہی میں جھوٹے ہیں ان کا باطن ان کے ظاہر کے مطابق نہیں ہے۔

آیت (2) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے جن کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قید و بند اور قتل سے بچاتے ہیں خو داسلام پر دل سے عمل پیرا نہیں ہوتے ہیں اور مدینہ کی سوسائٹی میں اسلام اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف شکوک و شبہات پھیلا کر لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور جو اسلام میں داخل ہوگئے ہیں، انہیں جہاد میں جانے اور نیکی کے دیگر کاموں سے روکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان کے یہ سارے کرتوت بڑے ہی گھناؤنے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت