فهرس الكتاب

الصفحة 3192 من 6343

4۔ ان عجیب و غریب خبروں میں سے پہلی خبر موسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق ہے، جب وہ مدین سے مصر جانے کے لیے اپنی بیوی بنت شعیب کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب رات کے وقت کوہ سیناء کے پاس پہنچے، اور زمانہ سردی کا تھا، تو دیکھا کہ پہاڑ کی جانب سے آگ کی روشنی آرہی ہے، انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو، میں وہاں جا کر لوگوں سے راستے کا پتہ لگا تا ہے (اس لیے کہ وہ راستہ بھول گئے تھے) یا تھوڑی سی آگ ہی لے آتا ہوں تاکہ تم سردی کی اس رات میں کچھ گرمی حاصل کرو، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ یہ تو آگ نہیں بلکہ نور ہے، جو ایک بہت ہی ہرے درخت سے پھوٹ کر نکل رہا ہے، اور اس نور کی تیزی اور اس درخت کا ہر اپن بڑھتا ہی جا رہا ہے، اور سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہ نور آسمان کی طرف سے آرہا ہے اور حد نگاہ تک اس کا تسلسل قائم ہے، پھر آواز آئی کہ خیر و برکت ہے اس شخص کے لیے جو اس آگ میں کھڑا ہے جو درحقیقت اللہ کا نور ہے، اور ان لوگوں کے لیے جو اس نور کے ارد گرد رہنے والے ہیں، یعنی سرزمین شام و بیت المقدس والوں کے لیے، اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانبیاء آیت 71 میں سرزمین شام کو بابرکت کہا ہے۔ ونجیناہ ولطا الی الارض التی بارکنا فیہا للعالمین۔ اور ہم ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس زمین کی طرف لے چلے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لیے برکت رکھی تھی۔

چونکہ اس مقام کا تقاضا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بندوں کے ساتھ ہر تشبیہ و مماثلت سے پاک مانا جائے اور موسیٰ علیہ السلا کو یہ بتایا جائے کہ ایسی بات نہیں کہ اللہ رب العالمین اس درخت پر بیٹھا ہے یا اس میں حلول کر گیا ہے، یا کوئی زبان حرکت کر رہی ہے جس سے یہ آواز نکل رہی ہے، اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ وہ رب العالمین و چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی مخلوق اس کے مشابہ نہیں ہے، کوئی چیز اس کا احاطہ کیے ہوئے نہیں ہے، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، اور تمام مخلوقات کی مماثلت و مشابہت سے یکسر پاک ہے۔

اس کے بعد اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی کہ وہ اللہ ہے جو اس سے بات کر رہا ہے کوئی فرشتہ یا کوئی اور مخلوق نہیں ہے۔ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کو سکون حاصل ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ آپ اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دیجئے۔ ڈالتے ہی لاٹھی ایک سانپ کی طرح تیزی کے ساتھ دوڑنے لگی۔ موسیٰ (علیہ السلام) یہ دیکھتے ہی ڈر کے مارے بھاگ پڑے، اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھنا چاہا، تو اللہ نے پکارا کہ اے موسیٰ ! آپ ڈرائیے نہیں، پیغمبر حضرات میرے پاس نہیں ڈرا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ میری حفاظت میں ہوتے ہیں۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کو بشارت دے دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی اور رسول چن لیا ہے، اور ان کے دل سے خوف کو نکال دیا گیا تاکہ جس کے پاس انہیں دعوت اسلام لے کر جانا تھا، اس سے پوری جرات و صراحت کے ساتھ بات کرسکیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت