(14) نبی کریم کے زمانے میں جو اہل کتاب موجود تھے اور جنہوں نے اہل مکہ کو آپ سے اصحاب کہف کے بارے میں پوچھنے پر اکسایا تھا، انہیں اس کا تو علم تھا کہ کسی زمانے میں یہ واقعہ ہوا تھا، لیکن ان نوجوانوں کی صحیح تعداد کا انہیں علم نہیں تھا، کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہ تین آدمی تھے اور ان کے ساتھ چوتھا کتا تھا، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وہ پانچ آدمی تھے اور ان کے ساتھ چھٹا کتا تھا، لیکن کسی بات کا انہیں یقین نہیں تھا، یونہی اٹکل پچو باتیں کرتے تھے، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی تعداد سات تھی، اور ان کے ساتھ آٹھواں کتا تھا۔ مفسرین کا خیال ہے کہ قرآن کے سیاق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آخری رائے حقیقت امر کے زیادہ قریب ہے، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے فرمایا، آپ اس بارے میں اختلاف کرنے والوں سے کہہ دیجیے کہ ان کی تعداد کا بہتر علم اللہ کو ہے، اور بہت کم لوگ ان کی صحیح خبر رکھتے ہیں۔ ابن عباس کہا کرتے تھے کہ میں ان کم لوگوں میں سے ہوں جنہیں ان کی تعداد کا صحیح علم ہے ان کی تعداد سات تھی۔
اس کے بعد آپ سے کہا گیا کہ اس کے بارے میں اہل کتاب کے ساتھ جھگڑا نہ کریں، بلکہ آپ کو جتنی بات بذریعہ وحی بتائی گئی ہے وہ ان کے سامنے پیش کردیں، اور ان کی رائے نہ معلوم کریں، اس لیے کہ انہیں حقیقت کا کچھ بھی پتہ نہیں ہے، صرف اپنے ظن و گمان کے مطابق بات کرتے ہیں، اور آئندہ اگر کوئی کام کرنا چاہیں تو انشاء اللہ کہے بغیر نہ کہیں کہ میں یہ کام کروں گا۔
آیت کے اس حصہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب قریش والوں نے یہود کے اشارے پر آپ سے تین سوالات کیے، تو آپ نے وحی کی امید میں ان سے کہا کہ میں کل تمہارے سوالات کا جواب دوں گا، اور انشاء اللہ نہیں کہا، اس کے بعد پندرہ دن تک وحی نہیں آئی، پھر یہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ کو اپنے کے ساتھ حق ادب سکھایا گیا کہ آئندہ جب بھی کسی کام کا ارادہ کریں تو کہیں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں یہ کام کروں گا۔ نیز آپ سے یہ بھی کہا گیا کہ جب آپ کبھی انشاء اللہ کہنا بھول جائیں تو یاد آجانے پر کہہ لیا کریں۔ اور آپ لوگوں سے یہ بھی کہہ دیں کہ مجھے امید ہے کہ میرا رب میری نبوت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے اصحاب کہف کی خبر سے بھی بڑی نشانیاں اور اہل دلائل پیش کرے گا، اور نبی کریم کی یہ امید پوری ہوئی کہ اللہ نے آپ کو بذریعہ وحی گزشتہ انبیائے کرام اور ان کی قوموں کے واقعات کی خبر دی جو آپ کی صداقت کے بہت ہی روشن اور واضح دلائل تھے۔