(27) قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کفار مکہ کی جب تمام افرتا پردازیوں کی دلائل و براہین کے ذریعہ تردید کی جا چکی، تو اب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ ان کافروں کی زیادہ پرواہ نہ کیجیے اور آپ کے رب کی طرف سے آپ پر جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے، اسے پورے صبر و استقامت کے ساتھ ادا کرتے رہئے اور اپنے بارے میں اندیشہ نہ کیجیے، آپ کا اللہ آپ کی حفاظت کر رہا ہے اور جب رات میں بیدار ہویئے تو اپنے رب کی تسبیح بیان کیجیے۔
امام احمد، بخاری اور اصحاب سنن نے عبادہ بن صامت رضی اللہ سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو کوئی رات کو بیدار ہو اور کہے " لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شئی قدیر سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولا قوۃ الا باللہ" پھر اپنے لئے دعا کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھے، تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیام اللیل (تہجد کی نماز) کا حکم دیا گیا ہے۔
بعض لوگوں نے (حین تقوم) سے مراد " حین تقوم الی الصلوات الخمس" مراد لیا ہے، یعنی پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کیجیے اور ان میں اللہ کی خوب تسبیح بیان کیجیے امام مسلم نے اپنی کتاب (الصحیح" میں عمر(رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتدائے نماز میں " سبحانک اللھم وبحمدو تبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک پڑھا کرتے تھے۔
ان حضرات نے اپنی اس رائے کی تائید میں آنے والی آیت (49) پیش کی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات میں بیدار ہو کر اور رات کے آخری حصہ میں اپنے رب کی تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا ہے، یعنی اس سے معلوم ہوا کہ اوپر والی آیت (48) میں (حین تقوم) سے مراد پنجوقتہ نماز ہے۔
مجاہد نے (حین تقوم) سے مراد ہر مجلس سے اٹھنا لیا ہے، مسند احمد میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور کثرت سے اونچی آواز میں بات کرے، اور اٹھنے سے پہلے کہے:" سبحانک اللھم وبحمدک اشھدان لا الہ الا اللہ استغفرو اتوب الیک " تو اللہ تعالیٰ اس کے اس مجلس کے گناہوں کو معاف کر دے گا، اس حدیث کو ترمذی اور حاکم نے بھی روایت کی ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ (ادبار النجوم) یعنی رات کے بالکل آخری حصہ میں اللہ کی تسبیح بیان کرنے میں فجر کی نماز بھی داخل ہے اور ابن عباس (رض) کے نزدیک (ادبار النجوم) سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں، صحیحین میں عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی نفل نماز کا اہتمام نہیں کرتے تھے اور امام مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ فجر کی دو رکعتیں دنیا و مافیہما سے بہتر ہے۔ وباللہ التوفیق