(20) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفر و شرک اور عاصی کا ارتکاب کرنے والوں کا برا انجام ان کے سامنے ہوگا اور وہ عذاب نارا نہیں ہر چہار جانب سے گھیر لے گا جس کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ آج ہم تمہیں جہنم میں ڈال کر اسی طرح بھول جائیں گے جس طرح تم اس دن کو بھول کر شرک و معاصی کا ارتکاب کرتے رہے، اور نیک عمل سے دور رہے، جو آج عذاب نار سے تمہاری نجات کا سبب بنتا اور اب کوئی نہیں جو تمہیں عذاب نار سے نجات دلا سکے اور تم اس انجام بد سے اس سبب سے دوچار ہوئے ہو کہ تم نے قرآن کریم کا مذاق اڑایا تھا اور دنیا کی رنگ رلیوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تھا اور تم سمجھ بیٹھے تھے کہ نہ کوئی دوسری زندگی ہے اور نہ ہی حساب و جزا ہے۔
آیت (35) کے آخر میں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے انتہائے نفرت کی وجہ سے منہ پھیر لے گا اور کہے گا کہ اب یہ بدبخت اس آگ سے کبھی نہیں نجات پائیں گے اور نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ اپنا عذر پیش کر کے اپنے رب کو راضی کرلیں، کیونکہ توبہ اور معذرب طلبی کی جگہ دنیاتھی، میدان محشر تو صرف حساب و جزا کی جگہ ہوگی۔